الور، 11 مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وہ تین عجیب گھنٹے الور گینگ ریپ متاثرہ کا زندگی بھر پیچھا کرتے رہیں گے لیکن 20 سال کی، 12 ویں میں پڑھنے والی اس دلت شادی شدہ نے طے کر لیا ہے کہ وہ اپنے لئے انصاف کی لڑائی کو جاری رکھے گی۔26 اپریل کو پانچ لوگوں نے اس کے شوہر کے سامنے تین گھنٹوں تک اس کا ریپ کیا، وہ صدمے میں ہے پر ایک بات کو لے کر طے ہے کہ ان پانچوں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ متاثرہ نے کہاکہ میں چاہتی ہوں کہ ان پانچوں کو جنہوں نے میرا ریپ کیا، ویڈیو بنایا اور میری زندگی برباد کر دی، پھانسی کی سزا دی جائے،اگر کوئی اس سے بھی بڑی سزا ہو تو وہ ان پانچوں کی دی جانی چاہئے۔مقامی پولیس نے جس طرح شروع میں اس کی شکایت پر رد عمل ظاہر کیا اور بعد میں جب ملزمان میں سے ایک نے 4 مئی کو گینگ ریپ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالا، اس وقت بھی ایف آئی آر لکھنے میں پولیس نے جو آنا کانی دکھی اس متاثرہ خوف میں ہے۔متاثرہ کے شوہر بتاتے ہیں، جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوا ہم پولیس اسٹیشن گئے پر ہمیں بتایا گیا کہ عملے کی کمی کی وجہ سے کیس درج نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انتخابات کی وجہ سے 5 اور 6 مئی کو بھی اس مسئلے پر کچھ نہیں کیا جا سکے گا۔واقعہ والے دن کویاد کرتے ہوئے متاثرہ کے شوہر نے بتایاکہ جیسے ہی میں اپنی سسرال سے نکلا اس کے 10 منٹ بعد ہی یہ پانچوں لوگ ہمارا پیچھا کرنے لگے اور ہمیں زبردستی روک لیا،وہ ہمیں ایک نالے میں گھسیٹ کر لے گئے اور ہم کپڑے اتارنے کو کہا،جب ہم نے اس کی مخالفت کی تو انہوں نے ہمارے کپڑے پھاڑ دیے اور ہمیں پیٹا،اس کے بعد تین گھنٹوں تک ہماری زندگی جیتے جی جہنم بن گئی۔کیس لکھانے کے بعد بھی دھمکی اور پیسوں کا مطالبہ جاری رہا،متاثرہ بتاتی ہیں کہ ہم نے شروع میں معاملے کی شکایت نہیں کی کیونکہ ان لوگوں نے میرے والدین اور خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھیل یکن بعد میں ہمیں لگا کہ ہمیں پولیس میں رپورٹ لکھانی چاہئے تاکہ کسی اور کو اس درندگی نہ جھیلنی پڑے۔ اس جسمانی اور ذہنی صدمے سے ابھرتے ہوئے متاثرہ اور ان کے شوہر نے طے کر لیا ہے کہ وہ گوجر برادری کے آگے نہیں جھکیں گے اور انصاف کے لئے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔غور طلب ہے کہ پانچوں ملزم گوجر برادری سے ہیں۔